21 اگست، 2026، 1:49 PM

مشرق وسطی میں امریکہ کے فوجی اڈے اب قابل استعمال نہیں رہے، سابق سربراہ سینٹکام

مشرق وسطی میں امریکہ کے فوجی اڈے اب قابل استعمال نہیں رہے، سابق سربراہ سینٹکام

سابق امریکی کمانڈر اور سی آئی اے کے سربراہ کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوجی تنصیبات کی صورت حال تبدیل ہوچکی ہے اور اہم کمانڈ مراکز سے آپریشنز جاری رکھنا ممکن نہیں رہا

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق کمانڈر اور سابق سی آئی اے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس نے کہا ہے کہ ایران کے حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطی میں امریکہ کے فوجی اڈے اب قابل استعمال نہیں رہے۔

اسٹیٹ سیکرٹ نامی پوڈکاسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی بنیادی تشویش ان ہتھیاروں اور صلاحیتوں کا مجموعہ ہے جو ایران کے پاس اب بھی موجود ہیں۔ ان کے بقول ہمارے سابق اڈے اب قابل استعمال نہیں رہے۔

سینٹکام کے سابق کمانڈر نے مزید کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اب سینٹکام کا موجودہ کمانڈر قطر کے باہر واقع العدید ایئر بیس کے سابق ہیڈکوارٹر سے کارروائیاں نہیں چلا رہا، کیونکہ ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں یہ مقام اب استعمال کے قابل نہیں رہا۔

سابق سی آئی اے سربراہ نے کہا کہ اس اڈے کا تقریبا نصف حصہ زمین کے اوپر واقع تھا۔ قطر نے امریکہ کے لیے تقریباً 100 ملین ڈالر کا ایک جدید اور خوبصورت اڈا تعمیر کی تھی، جس کی افتتاحی تقریب میں انہوں نے خود شرکت کی تھی، تاہم اب بظاہر اس کی چھت میں کئی سوراخ ہوچکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ فضائی آپریشنز مرکز بھی اب اس علاقے سے نہیں چلایا جا رہا اور دیگر کمانڈ مراکز کی صورتِ حال بھی اسی طرح کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام بارہا بحرین میں سینٹکام کے بحری اڈے پر کیے گئے حملوں کا اعلان کرچکے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ایران کے پاس اب ایسی فوجی صلاحیتیں موجود ہیں جو ماضی میں اس کے پاس نہیں تھیں۔

ان کے بقول، ایران کے پاس پہلے کے مقابلے میں زیادہ تعداد میں ڈرونز اور ایسے میزائل موجود ہیں جو امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے، امریکی فوجیوں کو ہلاک یا زخمی کرنے اور حتی کہ دنیا کے اہم ترین توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

News ID 1940793

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha